
فکری سفر، ردِ الحاد اور مفتی شمائل ندوی: پس منظر اور تناظر
سن 2020 میں جب کورونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور ملک در ملک لاک ڈاؤن نافذ تھا، اس غیر معمولی صورتحال نے جہاں عالمی نظام کو مفلوج کیا وہیں علمی و فکری حلقوں میں ایک نیا رجحان بھی پیدا کیا۔ گھروں تک محدود ہونے کے باوجود کئی اہلِ علم نے اس عرصے کو فکری و تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔ انہی دنوں ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الوجدی، جو ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں اور امریکہ کے شہر شکاگو میں مقیم ہیں، انہوں نے ’’دارالعلوم آن لائن‘‘ کے پلیٹ فارم سے الحاد کے فکری رجحانات کے جواب میں ایک منظم علمی پروگرام کا آغاز کیا، جسے ’’تہافت الملاحدہ‘‘ کا عنوان دیا۔ یہ نام امام غزالیؒ کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ سے متاثر ہو کر رکھا گیا تھا۔
اس آن لائن پروگرام کا بنیادی مقصد جدید دور میں اٹھنے والے فکری سوالات، بالخصوص خدا کے وجود، فلسفہ، علمیات، مغربی تہذیب، نظریہِ ارتقاء، وحی اور سیرتِ رسول ﷺ سے متعلق اعتراضات کا علمی اور منہجی جواب تیار کرنا تھا۔ اس کورس نے اردو دان حلقوں میں ایک ایسی فکری تربیت گاہ کی حیثیت اختیار کی جہاں نوجوانوں کو محض جذباتی نہیں بلکہ دلیل کی بنیاد پر گفتگو سکھائی جا رہی تھی۔
سن 2020 سے 2021 کے درمیان، جب سوشل میڈیا پر مذہب اور سیاست ہر شخص کی دسترس میں آ چکے تھے، اور بغیر علمی ذمہ داری کے ہر موضوع پر رائے زنی عام ہو چکی تھی، اسلام پر اعتراضات کا سیلاب نظر آ رہا تھا۔ خدا کے وجود، مسئلۂ شر، سیرتِ نبوی ﷺ اور وحی جیسے حساس موضوعات پر غیر سنجیدہ بلکہ بعض اوقات اشتعال انگیز گفتگو عام ہو چکی تھی، جس کے اثرات بالخصوص کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ میں فکری تشکیک کی صورت میں ظاہر ہو رہے تھے۔ اسی پس منظر میں ان منتخب طلبہ کو عوامی سطح پر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا جو رَدِّ الحاد کی بنیادی تربیت مکمل کر चुके تھے، حالانکہ کورس ابھی مکمل نہ ہوا تھا۔ یوں سن 2021-2022 میں مفتی شمائل ندوی ایک فکری نمائندے کے طور پر سوشل میڈیا پر سامنے آنے لگے۔ اسلام اور الحاد سے متعلق لائیو پروگرامز، مکالمے اور مختصر ویڈیوز ان کا معمول بنते چلے گئے۔
اس پورے عرصے میں رَدِّ الحاد کے میدان میں متعدد افراد نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق کردار ادا کیا۔ جہاں مفتی یاسر ندیم الواجدی اس میدان میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ کمر بستہ تھے، وہیں دوسرے افراد بھی اس میدان میں کام کر رہے تھے، جن میں قیصر راجہ، عاصم افتخار، عامر حق، عظیم عثمانی، صبور احمد، اور زید پٹیل شامل تھے۔ پس یہ وہ وقت تھا جب مفتی شمائل ندوی نے اردو دنیا میں اپنے علمی اسلوب اور مدلل گفتگو کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان سب کی مشترکہ کاوشوں نے دینِ اسلام اور سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے دفاع کو ایک منظم فکری سمت فراہم کی۔
اگرچہ اس میدان میں کام کرنے کے بعد مفتی شمائل ندوی نے رَدِّ الحاد کے عملی میدان سے کچھ وقفہ لے کر علومِ حدیث کے لیے خود کو وقف کر دیا، اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ عمومی سوشل میڈیا حلقوں کی نظروں سے اوجھل ہو گئے، تاہم یہ خاموشی کسی فکری کمزوری کا نہیں بلکہ گہرے علمی ارتکاز کا اظہار تھی۔ یہی پس منظر تھا جس کی بنیاد پر جب معروف سیکولر شاعر و دانشور جاوید اختر کی طرف سے وجودِ باری تعالیٰ اور مذاہب کے خلاف قیاس آریاں شروع ہوئیں، تو محترم مفتی واجدی صاحب نے اس مکالمے کے لیے اپنے اس ہونہار علمی سپاہی کو اس کام کے لیے ہتھیار بند کیا۔ لیکن اکثر لوگ چونکہ مفتی شمائل ندوی سے واقفیت کھو بیٹھے تھے تو بہت سوں نے اس نوجوان عالم کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھائے۔
لیکن جو لوگ اس فکری سفر کے مراحل سے واقف تھے، وہ جانتے تھے کہ یہ محض ایک اچانک ظہور نہیں بلکہ برسوں کی علمی تیاری کا منطقی نتیجہ ہے۔ اسی تناظر میں، جہاں تنقید ہوئی وہیں دفاع بھی کیا گیا، اور جس باغ کے یہ پھول تھے، وہاں سے یہ صدا بلند ہوئی:
(اسلام غالب ہے اور اس پر کوئی غالب نہیں آ سکتا)
اور آج جب میں اس نعرے پر غور کرتا ہوں تو خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ آیا یہ مفتی یاسر واجدی کا محض ایک جذباتی ردِعمل تھا، یا پھر ان کے دل پر نازل ہونے والی اس سکینت اور اطمینان کا اظہار، جو حبِ اسلام میں ایک نبی کے وارث کا مضبوط یقین اور فکری استقامت کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔

