علمِ کلام سے رشتہ کمزور ہونے کی وجہ سے کلیاتی فکر کا بحران
دورِ استعمار میں مسلم دنیا، بالخصوص برصغیر، میں تجدد پسندوں کی ایک پوری جماعت سامنے آئی۔ ان کے افکار یکساں نہیں تھے۔ بعض اہلِ سنت والجماعت کے اشعری و ماتریدی مابعد الطبیعیات کے شدید ناقد تھے، بعض اس کے منکر اور بعض نسبتاً معتدل؛ تاہم ان میں ایک عمومی رجحان مشترک تھا کہ علمِ کلام اب نئے علمی سوالات کا جواب دینے کے لیے کافی نہیں رہا۔
متکلمین کی مخالفت صرف تجدد پسندوں تک محدود نہیں ہے۔ تاریخی طور پر حافظ ابن تیمیہ بھی اس کے مخالف رہے ہیں اور ان سے متاثر ایک مذہبی حلقہ بھی اشعری و ماتریدی علمِ کلام کا ناقد رہا ہے، اگرچہ اس کے علمی مقدمات تجدد پسندوں سے بالکل مختلف ہیں۔ اسی طرح جدید سیاسی اسلامی تحریکوں سے وابستہ حلقوں کی بھی بڑی تعداد نے بھی علمِ کلام اور اس کی مابعد الطبیعیات کو مضر گردانا ہے۔ یوں مختلف اور بعض اوقات ایک دوسرے کے مخالف فکری دھارے الگ الگ اسباب سے متکلمین کے مکتبِ فکر سے دور ہوئے۔ ان سب کو ایک مکتب قرار دینا تو درست نہیں، لیکن ان کے مجموعی اثر سے متکلمین کے کلیاتی فکر و علمی اصول کی مرکزیت ضرور متاثر ہوتی گئی۔
فقہ، اصولِ فقہ، تفسیر اور دوسرے علوم کے جزوی مباحث اس کلیاتی علمی فضا سے بالکل الگ نہیں ہیں۔ حقیقت، علم، دلیل، علت اور انسانی ادراک سے متعلق بنیادی تصورات پس منظر میں موجود رہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، جزئیات ہوا میں معلق نہیں ہوتے؛ ان کے نیچے کلیات کی ایک پوری عمارت موجود ہوتی ہے۔
جب یہ کلیاتی فکر و علمی اصول کو ترک کیا جانے لگا تو مدارس سے فقہ، حدیث، تفسیر اور عربی علوم ختم نہیں ہوئے، لیکن انہیں ایک بڑے مربوط کلی تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت کمزور ہوتی گئی۔ طالب علم جزوی احکام، عبارات اور مسائل جانتا ہے، مگر دو مختلف تشریحات کے بنیادی اصولوں کا تقابل کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔
اسی طرح “سائنس نے ثابت کردیا ہے” سن کر وہ پوچھے گا کہ یہاں سائنس سے مراد تجربہ ہے، مشاہدہ ہے، ریاضیاتی ماڈل ہے یا کسی فلسفۂ سائنس کی تعبیر؟ اور “ثابت” سے مراد قطعی علم ہے یا احتمالی نتیجہ؟ یہ کلیاتی فکر اور محض جزوی معلومات کے درمیان بنیادی فرق ہے۔
کلیات کے کمزور ہونے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ پیدا ہونے والے خلا کو جدید مغربی تصورات نے پُر کرنا شروع کردیا۔ ذہن کلیات کے بغیر نہیں رہ سکتا؛ اگر اس کے اپنے کلیات موجود نہ ہوں تو وہ انہیں کسی دوسرے سے مستعار لے لیتا ہے۔
چنانچہ ایک شخص فقہ، حدیث اور تفسیر اسلامی روایت سے پڑھتا ہے، لیکن علم، ترقی، تعلیم، آزادی، حقوق، ریاست اور معیشت، جیسے بنیادی تصورات جدیدیت سے اخذ کرنے لگتا ہے۔ یوں ایک عجیب صورت پیدا ہوتی ہے کہ جزئیات اسلامی رہتی ہیں، مگر انہیں ترتیب دینے والے کلیات جدیدیت سے نکل کے آرہے ہوتے ہیں۔
اس کا دوسرا نتیجہ ظاہریت اور حرفیت پسندی کی صورت میں سامنے آیا۔ یہاں ظاہریت سے کوئی مخصوص تاریخی فقہی مکتب مراد نہیں، بلکہ وہ ذہنی رویہ ہے جس میں جزوی نص، حکم یا واقعے کو اس کے وسیع اصولی تناظر سے الگ کرکے دیکھا جاتا ہے۔
اسی لیے اکثر جگہوں پر جدید مسائل پر گفتگو زیادہ تر دو انتہاؤں میں تقسیم ہے، ایک طرف جدید مفروضات کو قبول کرکے ان کے اندر اسلامی نصوص کو فٹ کیا جاتا ہے، اور دوسری طرف چند جزوی نصوص پیش کرکے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ جدید فکر کا جواب دے دیا گیا۔ دونوں صورتوں میں کلیاتی سطح پر اصول کا تقابل غائب رہتا ہے۔
اگر متکلمین کا نظام واقعی جدیدیت و مغربیت کا جواب دینے لیے ناکافی تھا تو اس کی جگہ ایک زیادہ مضبوط اور جامع اسلامی علمی نظام تعمیر ہونا چاہیے تھا۔ مگر علم کلام کی مرکزیت تو کمزور ہوگئی، لیکن اس کی جگہ کوئی دوسرا مربوط مکتبِ فکر قائم نہ ہوسکا، ہوگا بھی تو کیسے کہ تمام مابعدالطبعیاتی اصول و مکتب فکر پہلے سے ہی موجود ہیں جس کو مغرب نئے نئے شکل میں پیش کرتا ہے مثلا جدیدیت وجودی سطح پر مادیت اور علمی سطح پر سب سے زیادہ سوفسطاییت سے متاثر ہے، مادیت و سوفسطاییت کا رد الگ الگ زاویہ سے متکلمین ہزاروں سالوں سے کرتے آتے ہیں۔
علم کلام کو ترک کرنے اور جدیدیت کا علمی و اصولی رد نہ کرنے کی وجہ سے مادیت پر مبنی وجودیت، سوفسطاییت پر مبنی علم (گرچہ یہ اجتماع ہی متضاد ہے)، سیاسی فلسفہ، معاشیات، نفسیات، سماجیات اور ٹکنالوجی کے بنیادی تصورات کے مقابل مسلمانوں کے پاس کوئی ایسا کلی علم نہ رہا جو اپنے اصولوں سے ان کا تجزیہ کرسکے۔ اس خلا کو بڑی حد تک جدیدیت نے پُر کردیا۔ اسی لیے آج بہت سے مباحث بظاہر اسلامی ہوتے ہیں، دلیل قرآن و حدیث سے دی جاتی ہے، مگر سوال کی تشکیل، تشریحات اور بنیادی مفروضات جدیدیت سے آئے ہوتے ہیں۔


